2 اگست، 2026، 6:47 AM

ٹرمپ ایران کے معاملے پر جے ڈی وینس کو برطرف کرنا چاہتے تھے، سابق وکیل کا انکشاف

ٹرمپ ایران کے معاملے پر جے ڈی وینس کو برطرف کرنا چاہتے تھے، سابق وکیل کا انکشاف

امریکی صدر کے سابق وکیل رابرٹ بارنز نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی پر اختلافات کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ اپنے نائب جے ڈی وینس کو کابینہ سے ہٹانا چاہتے تھے، تاہم آئینی رکاوٹ اس میں مانع بنی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق وکیل رابرٹ بارنز نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے معاملے پر شدید اختلافات کے باعث ٹرمپ اپنے نائب جے ڈی وینس کو عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے، لیکن امریکی آئین کے تحت وہ ایسا کرنے کے مجاز نہیں تھے۔

رابرٹ بارنز نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے حوالے سے نمایاں اختلافات موجود تھے، تاہم کابینہ کے بیشتر ارکان ٹرمپ کی مخالفت کرنے سے گریز کرتے تھے کیونکہ وہ بزدل اور خوشامدی تھے۔

انہوں نے بتایا کہ جے ڈی وینس ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے مخالف تھے اور جنگ کے پورے عرصے میں مسلسل اس پالیسی پر اعتراض کرتے رہے۔ بارنز کے مطابق مارچ اور اپریل کے دوران وینس نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا، وہ بعد میں درست ثابت ہوئے، جبکہ ٹرمپ کی کئی پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔

سابق وکیل کے مطابق وینس نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں بھی ٹرمپ کو اس تنازع سے باہر نکالنے کی کوشش کی، تاہم ٹرمپ نے ان کی کوششوں کو اہمیت نہیں دی۔

بارنز نے کہا کہ اس صورت حال کے نتیجے میں ایرانی فریق کو بھی اس بات پر اعتماد نہیں رہا کہ ٹرمپ کسی قابل اعتماد معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔

رابرٹ بارنز نے مزید کہا کہ ٹرمپ خود کو عالمی رہنماؤں کے ہم پلہ سمجھتے تھے اور نپولین جیسا کردار ادا کرنا چاہتے تھے۔ جے ڈی وینس کابینہ میں واحد شخصیت تھے جو ٹرمپ کو محدود کرنے کی کوشش کرتے تھے، جس کے باعث ٹرمپ انہیں برطرف کرنا چاہتے تھے، لیکن امریکی آئین اس اقدام کی اجازت نہیں دیتا تھا۔

News ID 1940514

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha